آنےوالابجٹ اورحالات کی پیچیدگیاں کیا ہیں؟ایک حیرت انگیز تحریر


Mian Fayyaz Ahmed Posted on April 16, 2018

یوں تو ہرسال وطنِ عزیزمیں بجٹ جو ن کے مہینے کے آخر میں پیش کیا جاتاہے، تا ہم اس کی تیا ری، بلکہ کہنا چاہیے کہ پیشگی اثرات اپریل کے مہینے سے ہی شرو ع ہو جا تے ہیں۔ اس سا ل صو رتِ حا ل کچھ یو ں بھی پیچیدہ ہے کہ مو جودہ حکو مت اپنی آ ئینی مد ت پورا کر نے کے انتہا ئی نز د یک ہے۔ چنا نچہ سوال اٹھ رہا ہےکہ آ یا 2018-19کے بجٹ بنا نے کا اختیا ر موجودہ حکومت کو حا صل ہو نا چا ہیے یا نہیں؟خصو صا ًان حالات میں جبکہ بالفزض مسلم لیگ ن برسرِ اقتدارنہیں آتی تو کیا کو ئی دوسری آنے والی حکومت موجودہ حکو مت کے بنا ئے گئے بجٹ سے سمجھوتہ کر پا ئے گی؟ گو یا یہ ایک گو مگو کی سی صو رتِ حال ہے۔اب اگر اس نکتے سے ہٹ کر بجٹ کی تیاریوں کا جا ئزہ لیا جا ئے تو معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ حکومت آنے والے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں، پنشن اور مراعات کے چار نکاتی پیکیج پر کام کر رہی ہے۔ اس با ب میں دستیاب وسائل کے اندر رہتے ہوئے اس حوالے سے کچھ اقدامات کا اعلان بجٹ میں کیا جائے گا۔ مجوزہ پیکیج میں 10 سے 20 فیصد تک ایڈہاک ریلیف الائونس اور گریڈ پندرہ تک کے ملازمین کا ماہانہ میڈیکل الائونس 1500 روپے سے بڑھا کر 2000 روپے کرنے جیسی تجاویز شامل ہیں۔ سرکاری ملازمین وافسران کو 2000 تا 16000 روپے ماہانہ یوٹیلٹی الائونس دینے کی تجویز کو بھاری اخراجات کے سبب پیکیج سے باہر کردیا گیا ہے۔ ملک بھر کے پنشنروں کو اس سال بہتر پیکیج دینے پر غور کیا جارہا ہے،جس میں پرانے پنشنروں کی پنشن میں 25 فیصد اضافہ جبکہ نئے پنشنروں کی پنشن میں 20 فیصد اضافہ کی تجویز ہے۔ ان تجاویز پر حتمی فیصلہ وزیراعظم کے زیرصدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کیا جائے گا۔
بے شک بڑھتی ہو ئی مہنگائی کے پیشِ نظر یہ اقدامات خوش آ ئند دکھا ئی د یتے ہیں۔ مگرہمارے ملک کے تا جر حضرا ت کا یہ وطیرہ رہا ہے کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضا فے کی خبر سنتے ہی ا شیا ئے صر ف کی قیمتوں میں دائیں بائیں دیکھے نئے سرے سے اضا فہ کردیتے ہیں۔ اس طور تنخواہوں میں ا ضا فے کا فا ئد ہ بھی تاجر طبقے ہی کو پہنچتا ہے۔ جیسا کہ اوپر تحریر کیا جا چکا ہے کہ موجودہ حکومت کی آئینی مدت ختم ہونے میں دو ماہ سے بھی کم وقت رہ گیا ہے۔ آئندہ انتخابات میں کون سی پارٹی اکثریت حاصل کرکے آگے آتی اور حکومت بناتی ہے، اس بارے میں کچھ بھی حتمی طور پرنہیں کہا جا سکتا۔ موجودہ حکومت کے کیے گئے بجٹ کے فیصلوں پرعمل درآمد اور طے کیے گئے اقتصادی ہدف پورے کرنا آنے والی حکومت کے لیے مشکل ہوسکتا ہے، کیونکہ بہرحال ہر پارٹی کی قائم کردہ حکومت کی اپنی ترجیحات اور الگ پالیسیاں ہوتی ہیں۔ چنانچہ موجودہ حکومت کو چاہیے معاشی فیصلے کرتے وقت اس بات کو پیش نظر رکھے کہ یہ ملک کے بہتر ین مفا د میں ہوں اور اگلی حکومت کو ان پر عمل درآمد میں مشکلات پیش نہ آئیں۔ 10 تا 20 فیصد ایڈہاک ریلیف الائونس کا اعلان اچھا فیصلہ ہوسکتا ہے، لیکن حکمران اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ ہمارے میں مہنگائی ایڈہاک نہیں ہوتی، مستقل ڈیرہ جمانے کے لیے آتی ہے۔ یہاں ایک بار جو چیز مہنگی ہوجا تی ہے، وہ پھر سستا ہونے کا نا م نہیں لیتی۔ کسی بھی حکومت میں اتنی طاقت نہیں ہو تی کہ کسی چیز کی بڑھی ہوئی قیمتیں واپس کرسکے۔ اوراس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ حکومت کا ہر اقتصادی فیصلہ مہنگائی بڑھانے کا باعث بنتا ہے۔ وہ پٹرولیم کی مصنوعات کے نرخوں میں اضافہ ہو یا کسی عالمی اقتصاد ی ادارے سے حاصل کردہ ریلیف پیکیج، کرنسی قدر کم ہونے پر بے بسی کا اظہار ہو یا برآمدات بڑھانے میں ناکامی کا اعتراف، توانائی کا بحران دور نہ کیا جاسکے یا رشوت اور کرپشن پر قابو نہ پایا جاسکے، ہر ایشو مہنگائی، بے روزگاری، غربت اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کا عمل بڑھانے کا ہی باعث بنتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ایڈہاک ریلیف کی بجائے اسے سرکاری تنخواہوں کا مستقل حصہ بنایا جائے اور اس میں مزید اضافہ کیا جائے۔ ملازمین کا ماہانہ میڈیکل الائونس بڑھانے کی تجویزمناسب ہے۔ مگرکیامیڈیکل الائونس بڑھانے سےملا زمین کو بہترطبی سہولیات دستیاب ہوسکیں گی؟ تو اس سوال کاجواب اس لیے نفی میں ہے کہ جب تک میڈیکل سٹا ف کی تنخواہوں اورمراعا ت میں ان کے حق کے مطا بق اضافہ نہیں کیاجاتا، وہ کبھی اپنے فرائض دِل جمعی سے ادانہیں کرپا ہیں گے۔ میڈ یکل سٹاف میں سب سے زیا دہ برے حالات ینگ ڈا کٹرز کے ہیں۔ انتہائی کم تنخوا ہو ں کی بناء پر وہ فرسٹر یشن کا شکارہوکر ملک چھوڑنے پربتدریج مجبورہوتے جا رہے ہیں۔ لہذا آنے والے بجٹ میں ان کی تنخواہو ں اورمراعات میں اس قدر اضا فہ کر دینا چا ہئیے کہ وہ آ ئند ہ کبھی سڑکوں پرآنے پرمجبورنہ ہوپا ئیں۔
علا وہ ازیں ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے میں اگرماہانہ یوٹیلیٹی الائونس بھی شامل کرلیا جائے توعام آدمی کے لیے روز افزوں مہنگائی کے اثرات سہنا ممکن ہوسکتا ہے۔ پنشنروں کو شکایت رہی ہے کہ مہنگائی ان کے لیے بھی اتنی ہی بڑھتی ہے جتنی حاضر سروس ملازمین کے لیے، لیکن ان کی پنشن حاضر سروس ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کی شرح سے نہیں بڑھائی جاتی۔ امسال پرانے پنشنروں کی پنشن میں 25 فیصد اضافہ جبکہ نئے پنشنروں کی پنشن میں 20 فیصد اضافے کی تجویز نہایت مناسب ہے۔ پنشنوں میں اتنا اضافہ ہوجائے تو ریٹائرڈملازمین کو مہینہ بھر کے اخراجات پورے کرنے میں مدد ملے گی۔ آئندہ بجٹ کے لیے چند تجاویز اس طرح ہیں:اس میں درآمدات کم کرنے اور برآمدات بڑھانے کا قابل عمل پروگرام پیش ہونا چاہیے، کیونکہ معاشی بحران پر قابو پانے کا اس سے بہتر طریقہ اور کوئی نہیں ہوسکتا۔ ان اشیاء کی درآمد پر ڈیوٹی یا ٹیکس بڑھادیاجائے جولگژریزمیں شمار ہوتی ہیں۔ ٹیکس نیٹ بڑھایاجائے اورمتمول افراد اورخاندانوں سے بزور ٹیکس وصول کیا جائے کہ یہ ریاست کا حق ہے۔ توانائی کے شعبوں کے لیے رقوم مختص کی جائیں کہ اسی سے صنعت کا پہیہ گھومےگا اورمعیشت ترقی کرے گی۔ زرعی شعبہ پچھلے کچھ عرصے سے مسلسل نظر انداز ہورہا ہے۔ یہ غفلت ختم ہونی چاہیے۔ ضروری ہے کہ نئے بجٹ میں زرعی پیداوار بڑھانے کے اقدامات کیے جائیں کہ ہماری معیشت کا زیادہ تر انحصار تاحال اسی شعبے پر ہے۔ د یکھنے میں آ تا ہے کہ ہما ری حکومتو ں کے اخراجات ہمارے عمومی معا شی حالات سے کبھی میل نہیں کھا تے، اور کئی گنا بڑھ کرہوتے ہیں۔ لہذا ان اخراجا ت میں کمی لا نے کے سلسلے میں خصوصی طور پرغور کرنا ہو گا۔ بجٹ میں اس امرکا خیال رکھنا ہو گا کہ آنے والی حکومت کو نئے قرضےنہ لینے پڑیں کیونکہ یہی وہ ناسورہےجو قومی خزانے پر بوجھ کا باعث بنتا ہے۔