جعلی اکاؤنٹس کیس: جے آئی ٹی نے زرداری اور اومنی گروپ کو ذمہ دار قرار دے دیا


Sajjad Bhutta Posted on December 24, 2018

لاہور: میگا منی لانڈرنگ کیس میں جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں زرداری اور اومنی گروپ کو جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے فوائد حاصل کرنے کا ذمہ دار قرار دے دیا جس پر عدالت نے اومنی گروپ کی جائیدادوں کو منجمد کرنے کے احکامات جاری کردیے۔
سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے جعلی بینک اکاؤنٹس کیس کی سماعت کی۔
عدالتی حکم پر کمرہ عدالت میں پروجیکٹر لگا کر جے آئی ٹی رپورٹ کی سمری چلائی گئی، جس میں آصف زرداری اور اومنی گروپ کو جعلی اکاؤنٹس کا ذمہ دار قرار دیا گیا۔
سربراہ جے آئی ٹی ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے احسان صادق کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ کراچی اور لاہور بلاول ہاؤس کے پیسے جعلی اکاؤنٹس سے ادا کئے گئے جب کہ بلاول ہاؤس لاہور کی اراضی زرداری گروپ کی ملکیت ہے۔جے آئی ٹی رپورٹ میں کہا گیا کہ جعلی بینک اکاؤنٹس سے آصف علی زرداری کے ذاتی اخراجات کی ادائیگیاں کی گئیں، بلاول ہاؤس کے کتے کے کھانے، صدقے کے 28 بکروں کے اخراجات بھی جعلی بینک اکاؤنٹس سے دیے گئے۔
جس پر جسٹس اعجازالاحسن نے استفسار کیا اراضی گفٹ کی گئی تو پیسے کیوں ادا کیے گئے، کیا گفٹ قبول نہیں کیا گیا تھا جس پر سربراہ جے آئی ٹی نے بتایا کہ زرداری گروپ نے 53.4 ارب روپے کے قرضے حاصل کیے۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا ایان علی کہاں ہے، کیا وہ بیمار ہو کر پاکستان سے باہر گئیں، کوئی بیمار ہو کر ملک سے باہر چلا گیا تو واپس لانے کا طریقہ کیا ہے۔
اس موقع پر ایف آئی اے نے عدالت سے استدعا کی کہ تمام افراد کے نام ای سی ایل میں شامل کیے جائیں جس پر چیف جسٹس نے کہا آپ وزارت داخلہ کو درخواست دیں، ای سی ایل سے متعلق وہ فیصلہ کریں گے۔
چیف جسٹس نے جے آئی ٹی رپورٹ فریقین کو دینے کا حکم دیا اور آصف زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک کو کہا کہ رپورٹ پر آپ جواب جمع کرائیں۔
چیف جسٹس پاکستان نے اومنی گروپ کی جائیدادوں کو کیس کے فیصلے کے ساتھ مشروط کرتے ہوئے کہا کہ یہ جائیدادیں ضبط کی جائیں گی۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا یہ ڈنشا کون ہے جس پر جے آئی ٹی سربراہ نے بتایا یہ آصف علی زرداری کا فرنٹ مین ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا ڈنشا کے آصف زرداری کے فرنٹ مین ہونے کے کیا ثبوت ہیں؟۔
جے آئی ٹی رپورٹ میں کہا گیا کہ 1.2 ارب روپے آصف زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپور کے اکاؤنٹ میں گئے جس سے لاہور بلاول ہاؤس اور ٹنڈو الہ یار کی زمین خریدی گئی۔
جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق عدالتی حکم پر اومنی گروپ کی جائیدادوں کا تخمینہ لگایا اب قیمت کم ہوگئی جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا اس کا مطلب قرض کے لیے جائیدادوں کی قیمتیں بڑھا دی گئیں، برتھ ڈے، پاسپورٹ فیس، ایمرجنسی لائٹس کا بل بھی اومنی گروپ سے دیا گیا؟ جس پر جے آئی ٹی سربراہ نے کہا یہ ہر بار کمپنی تبدیل کر کے ادائیگیاں کرتے رہے، پہلے یہ 23 کمپنیاں تھیں، 2008 سے 2018 تک 83 کمپنیاں بن چکی ہیں۔
چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا 'بلاول کے لنچ کا بل 15 ہزار روپے بڑی رقم نہیں لیکن یہ رقم اومنی گروپ سے گئی، ممکن ہے وہ اس کے شیئر ہولڈرز ہوں۔
جے آئی ٹی نے کہا ہو سکتا ہے وہ شیئر ہولڈر ہوں، پھر ڈکلیئر کر دیں جس پر چیف جسٹس نے کہا اب پراسکیوشن کو نہیں ان کو خود ثابت کرنا ہوگا۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے 'یہ وہ پاکستان نہیں جو پہلے کا تھا، جہاں سرکاری زمینوں کی بندر بانٹ کی جاتی تھی، اگر کوئی پیمپر میں ہے تو اس کے ساتھ ہی جائے گا'۔
چیف جسٹس نے کہا زرداری اور بلاول کے گھر کے خرچے بھی یہ کمپنیاں چلاتی تھیں اور ان کے کتوں کا کھانا اور ہیٹر کے بل بھی کوئی اور دیتا تھا۔
جے آئی ٹی کی جانب سے پیش کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بلاول فیملی کا ایک کروڑ 20 لاکھ سے زیادہ کا ماہانہ خرچہ ان کمپنیوں سے ادا کیا جاتا تھا جب کہ کراچی اور لاہور کے بلاول ہاوسز کی تعمیر کیلئے بھی جعلی اکاؤنٹس سے رقوم منتقل ہوئیں۔
اس سے قبل چیف جسٹس نے آصف زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک سے مکالمے کے دوران کہا تھا کہ اربوں روپے کے کهانچے ہیں، معاف نہیں کریں گے۔
چیف جسٹس نے اومنی گروپ کے مالکان کے وکلا منیر بهٹی اور شاہدحامد کے ساتھ مکالمے کے دوران کہا 'لگتا ہے کہ اومنی گروپ کے مالکان کا غرور ختم نہیں ہوا، قوم کے اربوں روپے کها گئے اور پهر بهی بدمعاشی کررہے ہیں، لگتا ہے انہیں اڈیالہ جیل سے کہیں اور شفٹ کرنا پڑے گا'۔
چیف جسٹس نے کہا انور مجید کے ساتھ اب کوئی رحم نہیں، آپ وکیل ہیں، آپ نے فیس لی ہوئی ہے، آپ کو سنیں گے لیکن فیصلہ ہم نےکرنا ہے۔
یاد رہے کہ جعلی بینک اکاؤنٹس کے ذریعے منی لانڈرنگ کی تحقیقات کے لیے بننے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) نے اپنی تفصیلی رپورٹ 19 دسمبر کو سپریم کورٹ میں جمع کرائی تھی۔