ماں‌اپنی نوجوان بیٹی کی تربیت کیسے کرے؟دس زبردست طریقے


Mian Fayyaz Ahmed Posted on April 16, 2018

حسرت و افسوس سے مغلوب ماں نے تقریباً روتے ہوئے بتایا: میری عمر ابھی تیس سال سے بھی کم تھی کہ میرا شوہر فوت ہو گیا۔ وہ مجھے اور میری بیٹی کو تنہا چھوڑ گیا۔ آسمانوں اور زمین کا رب ہی ہمارا سہارا تھا۔ میری بیٹی اس وقت شیرخواروکمزور تھی۔ میں نے اسے دودھ پلایا، اس پر شفقت کی۔ اپنے پروردگار کی عبادت کے بعد وہی میری زندگی کا مرکز و محور تھی۔ وہ میری ازدواجی زندگی کا اکلوتا پھل تھی۔ میں تھکی تاکہ اسے آرام دوں۔ میں جاگی تاکہ وہ سوئے۔ میں بھوکی رہی تاکہ وہ پیٹ بھرے۔ میں نے اس کی خاطر شادی نہ کی تاکہ اس کا سوتیلا باپ، اس پر سختی نہ کرے۔ میری بیٹی بڑی ہو گئی اور اب کالج میں پڑھتی ہے اور اس مرحلے میں داخل ہوتے ہی اس میں ایسی تبدیلیاں آئی ہیں جن کی مجھے توقع نہ تھی۔ میں تو یہ توقع کر رہی تھی کہ جونہی وہ بڑی ہو گی اور اس میں پختگی آئے گی تو وہ میرے حسن سلوک کو یادکرے گی اور اس کی قدر کرے گی۔ وہ میری وفادار رہے گی اور میں نے اس کی خاطر جو قربانیاں دی ہیں، ان پر شکرگزار ہو گی۔ مگر میرے سامنے جو یک لخت تلخ حقیقت آئی ہے، یہ میری امیدوں کے بالکل برعکس ہے۔ مجھے اس کی ہرگز توقع نہ تھی۔
میری بیٹی میری بہت مخالفت کرنے لگی ہے۔ وہ میری ہدایات میں دلچسپی لیے بغیر جو چاہتی ہے کرتی ہے۔ وہ میرے ساتھ بولتے وقت آواز بہت اونچی کر لیتی ہے۔ میری نصیحتوں پر کان نہیں دھرتی بلکہ انٹرنیٹ میں زیادہ تر اوقات جان بوجھ کر میری نصیحت کے خلاف کام کرتی ہے۔ وہ رات گئے تک کمپیوٹر اور انٹرنیٹ میں مشغول رہتی ہے۔ وہ اپنے اسباق یاد کرنے میں دلچسپی نہیں لیتی، ہاں وہ کچھ گھنٹوں کے لیے اس رات پڑھتی ہے جس کی صبح اس کا امتحان ہو۔ اپنی سہیلیوں کے ساتھ ٹیلی فون پر کافی دیر باتیں کرتی رہتی ہے اور ان کے ساتھ بہت زیادہ باہر نکلتی ہے۔ وہ میرے ساتھ باہر نکلنا پسند نہیں کرتی جبکہ وہ ان کے ساتھ ہوٹلوں میں کھانا کھاتی ہے اور بازاروں میں گھومتی ہے۔ میری بیٹی گھر سے نکلنے اور واپس آنے کے مقررہ اوقات کی پابندی نہیں کرتی اور جب میں پوچھتی ہوں تو وہ ہمیشہ اس قسم کے جملے بولتی ہے:میں اب چھوٹی نہیں ہوں،آپ میرے ساتھ بچی جیسا سلوک کیوں کرتی ہیں؟ آپ مجھ پر اعتماد کیوں نہیں کرتیں؟، کیا آپ مجھ پر شک کرتی ہیں؟
میں بیٹی کے ساتھ بات چیت کرنے سے تنگ پڑ جاتی ہوں کیونکہ وہ آواز اونچی کر لیتی ہے۔ اس کے ساتھ میرے مکالمے ہمیشہ اس کے اس جملے پر ختم ہوتے ہیں:میں آزادہوں۔ وہ مجھ پرالزام لگاتی ہے کہ میں اس کے لیے نفسیاتی گھٹن کا سبب بنتی ہوں۔ وہ دھمکی دیتی ہے کہ وہ یہ گھر چھوڑ دے گی۔ یوں میری بیٹی نے نوجوانی میں قدم رکھتے ہی میری قربانی کو بھلا دیا ہے۔
—–===—–
اس میں شک نہیں کہ ماں کی شکایت الم ناک ہے۔ اسے اپنی بیٹی سے محبت ہے اور اسے بیٹی کے بارے میں ایسے انجام کا اندیشہ ہے جس سے بیٹی لاپروا اور غافل ہے۔ ماں کو اچھی طرح معلوم ہے کہ اس کی بیٹی ابھی تک جوانی کے آغاز میں ہے، وہ زندگی کے تجربے سے ناآشنا ہے۔ ماں کی شدید خواہش ہے کہ وہ اپنی لخت جگر کو زندگی کے تجربات سے آگاہ کرے اور اسے سادگی و بے خبری کے انجام سے محفوظ کرے۔
ماں کی اپنی بیٹی سے محبت میں کسی کو شک نہیں۔ ماں کے محرکات شریفانہ ہیں۔ اسے اپنی بیٹی کے بارے میں فکر و اندیشہ ہے۔ اس خطرناک زمانے میں ماں پر لازم ہے کہ وہ اپنی بیٹی کے بارے میں اپنا تربیتی کردار بھرپور طریقے سے سرانجام دے۔ ماں جب یہ فریضہ سرانجام دیتی ہے تو اسے بخوبی ادراک ہوتا ہے کہ بیٹے کے مقابلے میں بیٹی کا خیال رکھنے کی زیادہ ضرورت ہے۔ اسی لیے وہ بیٹی کے بارے میں زیادہ فکر مند ہوتی ہے۔
ہر ماں کے لیے کچھ مفید مشورے
میں چاہتا ہوں کہ اپنی بیٹی سے محبت رکھنے والی ہر ماں کی خدمت میں کچھ مفید مشورے پیش کروں تاکہ اسے اپنی نوجوان بیٹی کی تربیت کرنے میں آسانی ہو۔ یہ مشورے درج ذیل ہیں:
آپ اپنی بیٹی کو اپنے زمانے کے مطابق چلنے پر مجبور نہ کریں: یہ تو بہت اچھا ہے کہ ہم اپنی بیٹیوں کا خیال رکھیں، ان کی حفاظت کریں، ان کے بارے میں فکرمند رہیں، ان کے دکھ درد اور غم دور کریں اور یہ کہ ان کی تربیت کرنے میں ہم مثبت رویے اپنائیں۔ ان کے کاموں کی اصلا ح کریں، مگر تربیتی نقطۂ نظر سے یہ ہرگز درست نہیں ہے کہ ہم اپنے جوانی کے زمانے اور ان کی جوانی کے زمانے کے مابین ہونے والی تبدیلیوں کو نظرانداز کر دیں۔ لہٰذا ہم اپنی اولاد کو کیسے مجبور کر سکتے ہیں کہ وہ ہماری طرح رہیں؟ ہمارے جیسے لباس پہنیں اور اس طرح کے طرزِ عمل اختیار کریں جس طرح کے طرزِعمل ہم اپنی جوانی میں اختیار کرتے تھے، جس زمانے میں ہمارے بیٹے اور بیٹیاں زندگی گزار رہے ہیں، اس میں اور ہماری جوانی کے زمانے میں بہت فرق ہے۔ حضرت علیt نے کیا خوب ارشاد فرمایا:
اپنے بیٹوں کو اپنے اخلاق پر مجبور نہ کرو، وہ ایک ایسے زمانے کے لیے پیدا کیے گئے، جو آپ لوگوں کے زمانے سے ہٹ کر ہے۔
نوجوانی کی تبدیلیوں کو محفوظ رکھنے کی کوشش کیجیے: والدین کو اس حقیقت سے باخبر رہنا چاہیے کہ بیٹیوں میں بہت سے پہلوئوں میں تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں، جنھیں مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ اگر والدین ان تبدیلیوں کو ملحوظ نہیں رکھیں گے تو پھر وہ اولاد کے ساتھ غیرتربیتی طریق کار سے پیش آئیں گے یعنی ان پر تشدد اور سختی کریں گے اور کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے پر مجبور کریں گے جس کے ہمارے بچوں اور بچیوں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ لہٰذا ہم محتاط رہیں کہ بیٹوں اور بیٹیوں کی شخصیت پر کوئی چیز مسلط کریں؟ ان کی آرا پر کوئی پابندی لگائیںاور ان کی عمر کے مراحل کی خصوصیات سے صرفِ نظر کریں یا ان کے رجحانات و میلانات کو نظرانداز کریں۔
اپنی بیٹی کی نفسیاتی ضروریات پوری کریں: ماں باپ کا فرض ہے کہ وہ اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کی نفسیاتی ضروریات کو پورا کریں۔ ان ضروریات میں سے اہم ترین نوجوانوں اور دوشیزائوں کے لیے بطورِخاص محبت و تحسین کی ضرورت ہے۔
اپنی بیٹی کے ساتھ تربیتی بنیادوں کے مطابق پیش آیئے!کچھ تربیتی بنیادیں بہت زیادہ اہم ہیں۔ ان میں سے اہم ترین درج ذیل ہیں:
بیٹی کو یہ احساس دلانا کہ وہ شخصی آزادی سے لطف اندوز ہو رہی ہے اور وہ قابل احترام ہے۔ اس کی شخصیت میں قوت کے پہلوئوں کی دریافت اور بیٹی کی حوصلہ افزائی کرنا کہ وہ ان پہلوئوں کو ترقی دے۔ رہنمائی اور نصیحت کم کرنا، پُرسکون مکالمہ اور بحث زیادہ کرنا تاکہ بیٹی کو اظہار رائے کا پورا موقع ملے۔ اگرچہ وہ غلطی پر ہی ہو۔ بیٹی کی شخصیت کا احترام کرنا، اسے حقیر سمجھنے سے اجتناب کرنا، اس کی رائے کو معمولی سمجھنے سے گریز کرنا۔ حکم دینے میں لچک دار رویہ رکھنا اور حکم دینے میں تشدد و سختی نہ کرنا۔ بیٹی کی معمولی غلطیوں کو نظرانداز کرنا اور انھیں زیادہ بڑھانے سے بچنا۔ دوشیزہ کے اعتماد کو تقویت پہنچانا اور اس کے فراغت کے اوقات کو منظم کرنا۔ بیٹی کو مفید کاموں میں مشغول رکھنے کے لیے موزوں مواقع سے استفادہ کرنا۔ اسے بگاڑ اور لغزش کی جگہوں سے دور رکھنا۔ اسے مثبت سرگرمیوں میں شرکت کا موقع فراہم کرنا، خاص طور پر کھیلوں اور آرٹس میں، عام صحت میں دلچسپی رکھنا اور بیٹی کو غور و فکر کی مختلف اقسام کی مہارتوں کی تربیت دینا۔
اپنی دوشیزہ بیٹی کی سہیلی بنیے:آپ کا طریق کار ہونا چاہیے۔ احتیاط ہو مگر سختی نہ ہو۔ نرمی ہو مگر کمزوری اور سستی نہ ہو۔
اپنی بیٹی کے لیے نفسیاتی حالت کا سبب بننے سے بچیے: کیونکہ آپ کی بیٹی کی بری نفسیاتی حالت سے اسے بے چینی و بے قراری کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جس کے نتیجے میں وہ ہٹ دھرمی میں مبتلا ہو جائے گی، بسااوقات اس میں جذبہ انتقام پیدا ہو گا اور پھر وہ اپنی شخصیت کو ثابت کرنے کے لیے منفی اقدامات کرے گی۔ آپ کے خلاف سرکشی کرے گی اور خاندانی نافرمانی کا اعلان کر دے گی۔
اپنی بیٹی کے ساتھ حسن کارانہ انداز سے خطاب کریں: آپ جب بیٹی سے مخاطب ہوں تو سخت او رخشک لہجہ اختیار نہ کریں نہ ہی زبانی یا عملی توہین کریں۔
اپنے آپ پر قابو رکھیے: ایک ماں کو چاہیے کہ وہ اپنی بیٹی سے بات کرتے وقت نہ تو مشتعل ہو، نہ ناراض ہو نہ زود رنج۔ ایسا نہ کرنے کی صورت میں آپ کی نوجوان بیٹی کشیدگی اور تنائو میں مبتلا ہو گی۔ اس کی شخصیت میں اضطراب پیدا ہو گا، جس کے نتیجے میں یا تو وہ ضدی اور ہٹ دھرم ہو جائے گی اور آپ کا اشتعال اس میں منتقل ہو جائے گا یا پھر وہ خوف زدہ، شکست خوردہ اور مضطرب ہو جائے گی کہ اپنے آپ پر اعتماد نہیں کرے گی اور اس میں کئی نفسیاتی امراض اور بگاڑ پیدا ہو جائیں گے۔
دوشیزائوں کے ساتھ معاملہ کرتے ہوئے ان کے تحفظ و حمایت اور لاڈ پیار دونوں میں میانہ روی اختیار کی جائے۔
اپنی بیٹی کے ساتھ دوستوں جیسا سلوک کیجیے نہ کہ ماتحتوں جیسا: آپ اپنی بیٹی سے اس طرح مخاطب نہ ہوں جیسے تھانے دار ملزم سے مخاطب ہوتاہے۔ ہمارے گھروں میں غلط طریقوں کا رواج اور چلن ہے۔ ہم یہ حقیقت فراموش کر دیتے ہیں کہ بیٹی لڑکپن سے نکل کر پختگی کی طرف جا رہی ہے۔ اس کی شخصیت تشکیل پا رہی ہے۔ لہٰذا ماں کو اپنی بیٹی کے ساتھ دوستی کرنی چاہیے، اس کے ساتھ کھیلنا چاہیے، ہر اس چیز کو غور سے دیکھنا یا پڑھنا چاہیے جسے بیٹی دیکھتی یا پڑھتی ہے، خواہ وہ کتابیں ہوں یا ناول یا مطبوعہ اخبارات یا انٹرنیٹ پر الیکٹرانک مواد یا دیگر الیکٹرانک معلومات کے ذرائع۔ آپ اپنی بیٹی کو یہ احساس نہ دلایئے کہ وہ زیرنگرانی ہے اور آپ اس کے لیے ایک راڈار یا ویڈیو کیمرے کی مانند ہیں کہ یہ ہر وقت اس کی نگرانی کر رہے ہیں۔ آپ بیٹی کو یہ احساس نہ دلائیں کہ آپ ایک پولیس خاتون ہیں جو اس کی تمام نقل و حرکت کا جائزہ لے رہی ہیں۔ یہ احساس نہ دلانے کی صورت میں آپ دونوں ماں بیٹی کے تعلقات خراب ہو جائیں گے۔ نیز اس سے کچھ نفسیاتی مسائل بھی پیدا ہوں گے۔ لہٰذا آپ اپنی بیٹی پر اعتماد کیجیے۔
میرا یہ ہرگز مقصد نہیں کہ آپ اس پر بلاحدود و قیود اندھا اعتماد کریں، مگر آپ اسے یہ احساس دلائیں کہ آپ اس پر اعتماد کرتی ہیں اور بالواسطہ اس کی نگرانی کریں۔ اگر وہ آپ سے یہ اجازت لیتی ہے کہ وہ اپنی سہیلی کے گھر اکیلے جانا چاہتی ہے تو آپ اُس کے اس عمل پر شک نہ کریں بشرطیکہ راستہ محفوظ و پرامن ہو اور سہیلی کا گھر معزز ہو۔ تاہم آپ ٹیلی فون پر رابطہ کرکے اس کے بارے میں اطمینان کرسکتی ہیں کہ وہ وہاں خیریت کے ساتھ پہنچ گئی ہے۔ مگر ٹیلی فون پر آپ کی بات سے محبت و اعتماد جھلک رہا ہو۔ وہ چھوٹی بچی نہیں ہے۔ آپ اس پر اعتماد کریں مگر اس پر دبائو نہ ڈالیں، کیونکہ دبائو میں دھماکہ ہوتا ہے۔
آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہدایت اللہ کی طرف سے ملتی ہے اور یہ بھی یاد رکھیں کہ آپ کسی کو زبردستی نیکی کے راہ پر نہیں چلا سکتے۔ جہاں تک آپ کا اپنی بیٹی کی تربیت کرنا اور بیٹی کی خاطر مشقت و تھکاوٹ برداشت کرنا ہے تو کبھی اس کا بیٹی پر احسان نہ جتلائیں، کیونکہ اس کی تربیت کرنا ایک امانت ہے جو اللہ نے آپ کے سپرد کی ہے۔ اگر ہماری اولاد ہماری مہربانیوں اور قربانیوں کا انکار کرتی ہے تو ہمیں اپنے پروردگار سے اجر و ثواب ملنے کا یقین کرنا چاہیے۔
اپنی بیٹی کے ساتھ مکالمے کے طریقے کو عمدہ کیجیے! اس سلسلے میں میں درج ذیل تدابیر پر عمل کیجیے:
الف) مکالمہ کرتے وقت اپنی ہیئت کو بہتر کرنے کی کوشش کریں۔ یعنی جب بھی آپ اپنی نوجوان بیٹی کے ساتھ بات چیت کریں تو آپ کی حالت و ہیئت مناسب ہونی چاہیے۔ مثلاً آپ اپنا چہرہ اس کے قریب کریں، کیونکہ یہ اسے احساس دلائے گا کہ آپ اس سے محبت کرتی ہیں اور یہ کہ آپ اس کی سہیلی ہیں۔ یوں وہ آپ سے مطمئن ہو جائے گی اور آپ کی بات توجہ سے سنے گی۔
ب) مکالمے کے لیے درست وقت اختیار کیجیے: آپ اپنی بیٹی سے اس وقت مکالمہ کرنے کی کوشش کریں جب کہ اس کے سونے یا کھانے یا اس کی پڑھائی کے اوقات نہ ہوں۔ ایسے وقت بھی مکالمہ نہ کریں جب آپ اور وہ مشغول ہوں۔
ج) جگہ: بہتر ہو گا کہ مکالمہ گھر سے باہر کسی خوب صورت پُرسکون جگہ میں ہو۔ یہ مکالمہ کسی ایسی جگہ نہ ہو، جہاں کوئی مسئلہ پیش آ سکتا ہو یا اس میں مخالفت یا جھگڑے کا امکان ہو۔
د) بات غور سے اور اچھی طرح سینیے: آپ کی بیٹی جب آپ سے بات کر رہی ہو تو آپ غور سے اس کی بات سنیے۔ قطع کلامی نہ کیجیے۔ اسے کھل کر بات کرنے کا موقع دیجیے۔ اسے گھور کر مت دیکھیں، بلکہ اسے محبت اور شفقت کی نظر سے دیکھیے۔ آنکھوں کی ایک بولی ہوتی ہے کہ زبان اس کے اظہارسے قاصر رہتی ہے۔ اپنی بیٹی سے بات کرتے وقت بے توجہی نہ کریں۔ یعنی جب وہ آپ سے بات کر رہی ہو تو آپ اِدھر اُدھر نہ دیکھیں۔ نبی کریمe کے پاس بیٹھنے والا ہر شخص یہ سمجھتا تھا کہ حاضرین میں سے وہی آپe کو سب سے زیادہ محبوب ہے۔
ھ) غیر لفظی زبان (اشاروں کی زبان) کو اچھے طریقے سے استعمال کریں: اس سلسلے میں ضروری ہے کہ چہرے کے تاثرات پُرسکون ہوں اور ان میں اکتاہٹ نہ ہو۔ یعنی ماں جب اپنی بیٹی سے بات کر رہی ہو تو اس کا چہرہ سکون و اطمینان کا مظہر ہو۔
د) اپنی بیٹی کو امان کا احساس دلایئے: اس مقصد کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ آپ اپنی بیٹی پر یہ واضح کر دیں کہ آپ کا اس کے ساتھ مکالمے کا مقصد و ہدف بیٹی کے ساتھ شفقت ہے اور آپ اسے منفی عادات سے بچانا چاہتی ہیں۔ بات کرتے وقت آپ کو اُف اُف یا ہائے ہائے کرنے سے احتراز کرنا چاہیے۔ پھر آپ اسے اپنی رائے ظاہر کرنے اور اس پر بحث و مباحثے کا مکمل موقع فراہم کریں۔
ز) اپنی بیٹی کو ڈانٹ ڈپٹ اور سختی سے احتراز کیجیے: اس کا تقاضا ہے کہ آپ کی آواز کا لب و لہجہ شفقت آمیز اور پُرسکون ہو۔ اس کے ساتھ بات کرتے وقت آپ ٹھیرائو اور آہستگی سے کام

لیں۔ گالی گلوچ، مارپیٹ اور دھمکی دینے سے بچیں۔