نمازتہجد سے محرومی کے اسباب


Mian Fayyaz Ahmed Posted on April 14, 2018

علماء نے لکھا کہ تہجد کی توفیق ہر ایک کو نیصب نہیں ہوتی ۔بلکہ اسی شخص کو یہ سعادت میسر ہوتی ھے جو محرومی کے اسباب سے اپنے کو بچا کر رکھتا ھے ۔اور وہ اسباب چار ہیں
رات میں زیادہ کھانا
جب زیادہ کھانا کھایا جائے گا تو نیند زیادہ آئے گی ۔اور بدن سست رھے گا جس کی وجہ سے تہجد میں اٹھنا سخت دشوار ہوگا اس لیے رات میں معدہ کو ہلکا رکھنے کا اہتمام کیا جائے؟
دن میں زیادہ مشقت والے کام کرنا۔
عموماً زیادہ مشقت والے کام سے بدن تھک جاتا ھے اور سو کر اٹھنا مشکل ہوتا ھے ؟
دن میں آرام ( قیلولہ ) نہ کرنا
اگر دن میں کچھ دیرآرام نہ کیا جائے تو بھی اخیر شب میں اٹھنا آسان نہیں ہوتا اس لیے وقت نکال کردن میں قیلولہ کرنا چاہیے
گناہوں کا ارتکاب ؟
تہجد سے محرومی کا ایک سبب گناہوں میں مبتلاء ہونا بھی ھے ۔ گناہ کی نحوست سے آدمی عبادت کی لذت سے محروم کردیا جاتا ھے۔
اور اس کی طبیعت پر نحوست چھاجاتی ھے جس کی بنا پر شب خیزی کی توفیق سے محروم رہتا ھے؟
ایک شخص نے حضرت حسن بصری ۔رح۔ سے سوال کیا کہ میں خالی الذہن ہوکر رات میں سوتا ہوں اور میرا ارادہ رات میں اٹھ کر عبادت کرنے کا ہوتا ھے
اورمیں وضو کا پانی بھی تیار کر کے رکھتا ہوں ۔ مگر اٹھ نہیں پاتا اس کی کیا وجہ ھے؟
آپ نے فرمایا کہ
ذُنُو بُکَ قَیَّدَ تکَ۔ تمھارے گناہوں نے تمھیں قید رکھا ھے؟ یعنی تمھارے گناہ تمھاری خواہش کی تکمیل میں رکاوٹ بن گئے ہیں ؟
حضرت سفیان ثوری رحمتہ اللٌٰہ علیہ ۔ فرماتے ہیں کہ میں ایک گناہ کی وجہ سے ١٥۔مہینے تک تہجد کی نعمت سے محروم رہا ۔ پوچھا گیا کہ وہ گناہ کیا تھا ؟ تو آپ نے فرمایا کہ ایک آدمی کو روتا دیکھ کر میں نے دل میں سوچاتھا کہ یہ شخص ڈھونگ کر رہا ھے ( اس کے برخلاف ہمارا حال یہ ھے کہ ہم دن رات گناہ پر گناہ کرتے رہتے ہیں اور احساس تک نہیں ہوتا ۔ العیاذ باللٌٰہ )
حضرت ابو سلیمان دارائی کا مقولہ ھے کہ جب بھی بلاعذر کسی کی نماز باجماعت چھوٹتی ھے تو وہ کسی نہ کسی گناہ کا وبال ہوتا ھے؟
خلاصہ یہ کہ گناہ تہجد گزاری کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں ۔ گناہوں سے دل میں قساوت اور سختی پیدا ہوتی ھے اور قساوت کی بنا پر آدمی اخیر شب کی عبادت سے محروم کر دیا جاتا ھے اور ان گناہوں میں سب سے زیادہ برا اثر ڈالنے والا گناہ حرام مال پیٹ میں ڈالنا ھے
اس حرام مال سے طبیعت خیر کی طرف سے بالکل مضمحل اور سست ہوحاتی ھے ۔